اسلام آباد میں 2 جولائی کو نیشنل ایجوکیشن اسمبلی پاکستان کے منشور کا اعلان کیا جائے گا

اسلام آباد: نیشنل ایجوکیشن اسمبلی پاکستان (NEA) کے زیر اہتمام 2 جولائی کو اسلام آباد میں ایک اہم تقریب منعقد ہوگی، جس میں تنظیم کے قومی منشور کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ تقریب میں اراکینِ قومی اسمبلی، ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات، ماہرین تعلیم، اساتذہ، محققین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات خصوصی طور پر شرکت کریں گی۔

تقریب کی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ منتظمین کے مطابق ملک بھر سے تعلیمی ماہرین اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی اس تاریخی موقع پر شریک ہوگی۔
اس موقع پر نیشنل ایجوکیشن اسمبلی پاکستان کے نو منتخب صدر چوہدری ناصر محمود سمرہ بھی اپنے عہدے کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔ یاد رہے کہ انہیں حال ہی میں نیشنل ایجوکیشن اسمبلی پاکستان کا صدر برائے 2026ء تا 2028ء منتخب کیا گیا ہے۔
نیشنل ایجوکیشن اسمبلی پاکستان ایک غیر سیاسی اور غیر منافع بخش قومی پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد ملک کے تعلیمی نظام میں مؤثر اصلاحات، معیاری تعلیم کا فروغ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال، تحقیق کے فروغ اور تعلیمی پالیسی سازی میں ماہرین کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔
اس حوالے سے نیشنل ایجوکیشن اسمبلی پاکستان کے بانی چیئرمین صغیر اسد نے کہا کہ 2 جولائی کو پیش کیا جانے والا منشور پاکستان کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک جامع قومی روڈ میپ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا مقصد تمام تعلیمی اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے ایسی پالیسی سفارشات مرتب کرنا ہے جو ملک کے تعلیمی نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کر سکیں۔
صغیر اسد کا کہنا تھا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی بنیادی ضمانت ہے۔ نیشنل ایجوکیشن اسمبلی پاکستان ملک میں تحقیق، جدید تدریسی نظام، ڈیجیٹل تعلیم اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا منشور صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ پاکستان کے روشن تعلیمی مستقبل کا عملی عزم ہے، جس کی تکمیل کے لیے تمام متعلقہ اداروں، ماہرین تعلیم اور قومی قیادت کے تعاون کی ضرورت ہے۔



