فیفا ورلڈ کپ 2026: سعودی عرب اور یوراگوئے کا سنسنی خیز مقابلہ ایک، ایک گول سے برابر

گرین فالکنز کو 41ویں منٹ میں برتری اس وقت حاصل ہوئی جب عبدالالٰہ العمری نے کارنر کک پر شاندار ہیڈر کے ذریعے گیند جال میں پہنچا دی۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ ایچ کے افتتاحی میچ میں سعودی عرب اور یوراگوئے کے درمیان کھیلا گیا دلچسپ مقابلہ ایک، ایک گول سے برابر ہوگیا۔ ہارڈ راک اسٹیڈیم میں ہونے والے اس میچ میں سعودی ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے عالمی سطح کی مضبوط ٹیم یوراگوئے کو سخت مقابلے پر مجبور کر دیا۔

میچ کے پہلے ہاف میں سعودی عرب نے دفاعی اور جارحانہ دونوں شعبوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ گرین فالکنز کو 41ویں منٹ میں برتری اس وقت حاصل ہوئی جب عبدالالٰہ العمری نے کارنر کک پر شاندار ہیڈر کے ذریعے گیند جال میں پہنچا دی۔ اس گول کے بعد سعودی شائقین خوشی سے جھوم اٹھے اور پہلے ہاف کے اختتام تک سعودی عرب کو ایک صفر کی برتری حاصل رہی۔

دوسرے ہاف میں یوراگوئے نے واپسی کی بھرپور کوشش کی اور مسلسل حملوں کے ذریعے سعودی دفاع کو دباؤ میں رکھا۔ تاہم سعودی گول کیپر محمد العویس نے کئی شاندار بچاؤ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو برتری دلائے رکھی اور یوراگوئے کے متعدد یقینی گول ناکام بنا دیے۔

میچ کے 80ویں منٹ میں یوراگوئے کے میکسی آراوجو نے ایک عمدہ حملے کو گول میں تبدیل کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو برابری دلائی۔ اس گول کے بعد دونوں ٹیموں نے فتح کے لیے بھرپور کوشش کی، تاہم مقررہ وقت تک مزید کوئی گول نہ ہو سکا اور میچ ایک، ایک گول سے برابر ختم ہوا۔

میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں نے ایک، ایک پوائنٹ حاصل کیا۔ اگرچہ یوراگوئے کو اس مقابلے میں فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم سعودی عرب نے منظم کھیل، مضبوط دفاع اور غیر معمولی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی بڑی ٹیم کے خلاف سخت چیلنج پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فٹبال ماہرین کے مطابق سعودی ٹیم کی کارکردگی نے 2022 کے عالمی کپ میں ارجنٹائن کے خلاف تاریخی کامیابی کی یاد تازہ کر دی۔ خاص طور پر محمد العویس کی شاندار گول کیپنگ اور عبدالالٰہ العمری کا فیصلہ کن گول میچ کی نمایاں جھلکیاں رہیں۔

ہارڈ راک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ کو باسٹھ ہزار سے زائد شائقین نے دیکھا۔ گروپ ایچ میں شامل دیگر ٹیموں اسپین اور کیپ ورڈی کے میچوں کے نتائج کے بعد اگلے مرحلے کی صورتحال مزید دلچسپ ہو جائے گی۔

Kamran Ashraf

کامران اشرف ڈیجیٹل صحافی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہے اور پاک سعودی تعلقات سمیت امور خارجہ کی رپورٹننگ کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button