تمام سیاسی جماعتوں کی نا اہلی سامنے آچکی سب نے قوم کو مایوس کیا جس کی وجہ سیرت النبی ﷺ اور نظریہ پاکستان سے دوری ہے
پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں پروفیسر سیف اللہ قصوری،چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ،انعام الرحمن ،رانا زاہد مقبول ودیگر کا مقامی ہال میں منعقدہ ضلعی تربیتی کنونشن برائے کارکنان سے خطاب

اسلام آباد(ٹوئن سٹی نیوز) پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے ضلعی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیرت النبی ﷺ اور اسلام کے رہنما اصولوں کے مطابق سیاست پاکستان کے مسائل کا حل ہے،اگر ہم سیرت النبی ﷺ پر عمل کریں تو کرپشن و بددیانتی کے تمام مسائل ختم ہو سکتے ہیں ،تمام سیاسی جماعتوں کی نا اہلی سامنے آچکی سب نے قوم کو مایوس کیا جس کی وجہ سیرت النبی ﷺ اور نظریہ پاکستان سے دوری ہے، آئندہ عام انتخابات میں اسلام آباد کے تینوں قومی اسمبلی کے حلقوں سمیت پورے ملک میں تما م قومی و صوبائی حلقوں پر دیانتدار اور باوقار امیدوار کھڑے کریں گے ،ملک میں پائیدار ترقی کیلئے سیرت النبی ﷺ کی روشنی اور اسلام کے رہنما اصولوں کے مطابق مرکزی مسلم لیگ اپنا جامع پلان جلد پیش کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماءوں پروفیسر سیف اللہ قصوری،چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ،انعام الرحمن ،رانا زاہد مقبول ودیگر نے مقامی ہال میں منعقدہ ضلعی تربیتی کنونشن برائے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سیف اللہ قصوری،چوہدری شفیق الرحمان ،انعام الرحمن،رانا زاہد ودیگر کا کہنا تھا کہ سیاست کا معانی عوام کی اصلاح ہے مرکزی مسلم لیگ ملک بھر میں خدمت انسانیت اور عوام الناس میں سیاسی و اخلاقی شعور پیدا کرنے کیلئے کام کررہی ہے،،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیاست کی بنیاد اسلام کے رہنما اصول اور سیرت النبی ﷺ ہے ،مرکزی مسلم لیگ کراچی سے خیبر پورے ملک میں سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں عوام الناس کی تربیت پر کام کررہی ہے،ہماری سیاست امربالمعروف اور خدمت انسانیت ہے،مرکزی مسلم لیگ خدمت سے عوام کے دل جیت رہی ہے،ملک میں مہنگائی کے مشکل حالات مرکزی مسلم لیگ صرف احتجاج کرنے کی بجائے سستا سبزی سٹال،سستی روٹی تندور ،فری میڈیکل کیمپ اور عوامی سہولت بازار جیسے عوامی ریلیف کے منصوبہ جات پر کام کررہی ہے،عوام الناس میں مرکزی مسلم لیگ کے اپنی مدد آپ کے تحت جاری عوامی خدمت کے منصوبہ جات کو خوب پذیرائی مل رہی ہے ۔ آئندہ عام انتخابات میں عوام جھوٹے نعروں یا وعدوں پر ووٹ نہیں دیں گے ،عوام میں سیاسی شعور بیدار ہو چکا ہے اب ووٹ کردار ،خدمت اور قابلیت کی بنیاد پر ملیں گے یہی وجہ ہے کہ موروثی سیاستدان مرکزی مسلم لیگ کے کام اور عوامی مقبولیت سے خائف ہیں ۔