سبز سوچ کا سفیر: محمد منشا ساجد کا ماحول دوست سفر اور آگاہی

جنوبی پنجاب سے کشمیر تک ماحول دوست تحریک کی علامت


چونیاں کی سرزمین ہمیشہ سے محنتی، باہمت اور باوقار لوگوں کی پہچان رہی ہے۔ اسی دھرتی نے ایک ایسے شخص کو بھی جنم دیا جس نے ماحول کے تحفظ اور سبز سوچ کو فروغ دینے کے لیے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ وقف کر دیا۔ یہ شخصیت محمد منشا ساجد کی ہے، جنہیں محبت اور احترام کے ساتھ “سفیرِ سبز سوچ” کہا جاتا ہے۔ ان کی جدوجہد محض الفاظ یا تقاریر تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدام اور مسلسل سفر کی داستان ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کے پیغام کو عام کرنے کے لیے نہ صرف مختلف شہروں کا رخ کیا بلکہ چونیاں سے کشمیر تک پیدل واک کر کے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ فطرت کی حفاظت انسان کی اپنی بقا سے جڑی ہوئی ہے۔

 

محمد منشا ساجد کا ماننا ہے کہ زمین، درخت، پانی اور فضا انسان کے لیے خدا کی وہ نعمتیں ہیں جن کی حفاظت کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی سوچ کو لے کر انہوں نے ایک ایسا سفر شروع کیا جو جسمانی طور پر مشکل ضرور تھا مگر مقصد کے اعتبار سے انتہائی بلند تھا۔ چونیاں سے کشمیر تک ان کی پیدل واک محض ایک علامتی قدم نہیں بلکہ ماحول دوستی کا ایک مضبوط پیغام تھا۔ اس طویل سفر کے دوران وہ مختلف شہروں اور دیہات میں لوگوں سے ملتے، نوجوانوں سے گفتگو کرتے اور انہیں درخت لگانے، پانی کی حفاظت کرنے اور صاف ماحول برقرار رکھنے کی تلقین کرتے رہے۔ ان کا پیغام سادہ مگر مؤثر تھا کہ اگر ہم نے آج فطرت کا خیال نہ رکھا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

 

اسی جذبے کے تحت انہوں نے جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی پیدل مارچ کیا۔ جنوبی پنجاب کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں جا کر انہوں نے عوام میں ماحول کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ یہ علاقے جہاں ایک طرف زرعی اہمیت رکھتے ہیں وہیں دوسری جانب موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی یہاں شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ محمد منشا ساجد نے اپنی مہم کے دوران لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ درخت صرف خوبصورتی نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی سہارا ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے گھروں، گلیوں اور کھیتوں میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

 

ان کی مہم کی خاص بات یہ ہے کہ وہ کسی سرکاری پروٹوکول یا بڑی مالی معاونت کے بغیر اپنی محنت اور عزم کے بل پر آگے بڑھتے رہے۔ پیدل سفر کی تھکن، موسم کی سختیاں اور طویل فاصلے ان کے حوصلے کو کمزور نہ کر سکے۔ ہر قدم کے ساتھ ان کا یقین مزید مضبوط ہوتا گیا کہ اگر ایک فرد خلوص اور لگن کے ساتھ کسی مقصد کے لیے کھڑا ہو جائے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی وہ گئے لوگوں نے ان کے جذبے کو سراہا اور ان کے پیغام کو توجہ سے سنا۔

 

ماحولیاتی تحفظ آج پوری دنیا کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ، جنگلات کی کمی اور آلودگی جیسے مسائل انسانی زندگی کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں محمد منشا ساجد جیسے لوگ امید کی ایک کرن بن کر سامنے آتے ہیں جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مسئلے کا حل صرف حکومتوں کے پاس نہیں بلکہ عام انسان بھی اپنی ذمہ داری ادا کر سکتا ہے۔ درخت لگانا، پانی کو ضائع ہونے سے بچانا اور ماحول کو صاف رکھنا ایسے اقدامات ہیں جو ہر فرد اپنے طور پر کر سکتا ہے۔

 

محمد منشا ساجد کی جدوجہد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ سبز سوچ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ جب تک ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ماحول دوست عادات کو شامل نہیں کریں گے تب تک بڑی تبدیلی ممکن نہیں۔ چونیاں سے کشمیر تک کی پیدل واک اور جنوبی پنجاب میں ان کا پیدل مارچ دراصل اسی سوچ کی عملی مثال ہیں۔ یہ سفر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اگر انسان کے ارادے مضبوط ہوں تو وہ محدود وسائل کے باوجود بھی ایک بڑے مقصد کے لیے آواز بلند کر سکتا ہے۔

 

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے جو فطرت اور انسانیت کے لیے مثبت کام کر رہے ہیں۔ محمد منشا ساجد کی کوششیں نہ صرف قابلِ تعریف ہیں بلکہ ہمارے لیے ایک مثال بھی ہیں۔ ان کا پیغام سادہ مگر گہرا ہے کہ زمین ہماری امانت ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے اس ذمہ داری کو سمجھ لیا تو یقیناً آنے والی نسلوں کو ایک سرسبز، صاف اور محفوظ دنیا دی جا سکتی ہے۔

Kamran Ashraf

کامران اشرف ڈیجیٹل صحافی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہے اور پاک سعودی تعلقات سمیت امور خارجہ کی رپورٹننگ کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button