ریاض فنانس لیڈرز ہب کے زیر اہتمام تقریب، پاکستانی ماہرینِ معاشیات کی شرکت

اس نوعیت کی تقریبات نہ صرف علم اور تجربے کے تبادلے کا ذریعہ بنتی ہیں

ریاض فنانس لیڈرز ہب کی جانب سے ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے رجحان اور فنانس کے شعبے میں اس کے عملی استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تقریب میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ماہرینِ معاشیات اور فنانس پروفیشنلز نے بھرپور شرکت کی، جبکہ پاکستان سے نئے آنے والے معاشی ایکسپیٹریٹس کے لیے سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع پر خصوصی گفتگو کی گئی۔

تقریب کے منتظمین شکیل احمد اور عمار الحسن نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اس پلیٹ فارم کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ معزز مہمانوں میں دانش محمود، ڈاکٹر محمد عظیم، محمد عثمان، زبیر خان بلوچ، طاہر مقبول، مبشر خان، رضوان علی اور فصیح یو الدین شامل تھے، جنہوں نے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا۔

 

دانش محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس فنانس کے شعبے میں رسک مینجمنٹ، ڈیٹا اینالیسز اور فراڈ ڈیٹیکشن کے نظام کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، لہٰذا پاکستانی پروفیشنلز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ ڈاکٹر محمد عظیم نے کہا کہ سعودی عرب میں پیشہ ورانہ ترقی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، تاہم یہاں کے قوانین اور ضوابط کا احترام ہر فرد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

 

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب میں تقریباً 2.9 ملین پاکستانی مقیم ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد فنانس، بینکاری اور اکاؤنٹنگ کے شعبوں سے وابستہ ہے۔ اس کمیونٹی کے درمیان مضبوط نیٹ ورک قائم کر کے نہ صرف پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کی جا سکتی ہے بلکہ نئے آنے والے ماہرین کو تربیت، مینٹورشپ اور کیریئر گائیڈنس کے مواقع بھی دیے جا سکتے ہیں۔

 

عظیم شیخ نے کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات نہ صرف علم اور تجربے کے تبادلے کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ مصروف پیشہ ورانہ زندگی میں ذہنی توازن اور مثبت روابط کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

 

تقریب کے اختتام پر سعودی عرب اور پاکستان کی ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور آئندہ بھی ایسے علمی و پیشہ ورانہ پروگرامز کے تسلسل کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Kamran Ashraf

کامران اشرف ڈیجیٹل صحافی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہے اور پاک سعودی تعلقات سمیت امور خارجہ کی رپورٹننگ کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button