ماورائے عدالت قتل / ریاستی درندگی یا انصاف؟

ماورائے عدالت قتل / ریاستی درندگی یا انصاف؟

تحریر حسیب گوندل

ماورائے عدالت قتل کی حمایت دراصل قانون، انصاف اور انسانی جان تینوں کے خلاف بغاوت ہے۔ یہ کسی ایک ادارے کو لائسنس ٹو کِل دینے کے مترادف ہےیعنی جسے چاہو، جب چاہو، بغیر ثبوت، بغیر سماعت، بغیر عدالت کے مار ڈالو یہ نہ بہادری ہے نہ ریاستی طاقت بلکہ کھلی بربریت ہے جسے قومی مفاد کے نام پر بیچا جا رہا ہے پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں ادارے بدعنوانی دباؤ سفارش اور ذاتی مفادات سے آلودہ رہے ہیں، یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ ایسے مہلک اختیار کا غلط استعمال نہیں ہوگا۔ اداروں میں کام کرنے والے کوئی آسمانی مخلوق نہیں، وہ اسی معاشرے کی پیداوار ہیں جس میں خرید و فروخت عام ہے وردی ہو یا بغیر وردی۔ پھر کون ضمانت دے گا کہ کل کسی ذاتی دشمن، سیاسی مخالف یا طاقتور کے اشارے پر بندوق نہیں اٹھے گی؟ماورائے عدالت قتل انصاف نہیں یہ انصاف کا قتل ہے یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانی زندگی کی تذلیل ہے۔ یہ ریاست کی طاقت نہیں بلکہ ریاست کی ناکامی کا اعلان ہے جو حکومت قتل کی راہ ہموار کر سکتی ہے، وہ اگر چاہے تو عدلیہ کو آزاد پولیس کو پیشہ ور، تفتیش کو شفاف اور پراسیکیوشن کو مؤثر بھی بنا سکتی ہے۔ مگر جب اصلاح کی ہمت نہ ہو تو گولی کو حل بنا لیا جاتا ہے یہ کہنا کہ عدالتیں کام نہیں کرتیں اور اسی بنیاد پر قتل کو جائز ٹھہرانا قاتلانہ ذہنیت کی بدترین مثال ہے۔ اگر عدالتیں کمزور ہیں تو انہیں مضبوط کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، نہ کہ انہیں روند کر بندوق کو منصف بنا دیا جائے۔ جس دن عدالت غیر متعلق ہو جاتی ہے، اسی دن ہر شہری قابلِ قتل قرار پاتا ہے مجرم بھی اور بے گناہ بھی اگر ماورائے عدالت قتل واقعی کوئی قابلِ فخر عمل ہوتا تو ادارے اسے سینہ تان کر تسلیم کرتے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر لاش کے بعد وہی گھسا پٹا جھوٹ دہرایا جاتا ہے ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیایہ جھوٹ خود اعترافِ جرم ہے کوئی عام ملزم تربیت یافتہ جنگجو نہیں ہوتا کہ اس کی ہر گولی نشانے پر لگے اور ریاستی اہلکار معجزانہ طور پر بچ نکلیں۔ یہ بیانیہ عقل، قانون اور سچ تینوں کی توہین ہے بین الاقوامی قانون کے مطابق ماورائے عدالت قتل دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ یہ خوف کے ذریعے کنٹرول طاقت کے ذریعے خاموشی اور قانون کے بغیر سزا کا نظام ہے۔ جب ریاست وہی طریقے اپناتی ہے جو دہشت گرد اپناتے ہیں تو فرق صرف وردی اور بیان کا رہ جاتا ہے—عمل ایک جیسا ہوتا ہے حقیقت سیدھی ہے اور تلخ بھی

ماورائے عدالت قتل نہ انصاف ہے، نہ غیرت، نہ ریاستی رعب۔ یہ قانون کی موت اور معاشرے کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ آج اگر اسے درست کہا گیا تو کل بندوق کسی اور کی باری لے گی

انصاف عدالت سے آتا ہے گولی سے نہیں وسلام

Kamran Ashraf

کامران اشرف ڈیجیٹل صحافی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہے اور پاک سعودی تعلقات سمیت امور خارجہ کی رپورٹننگ کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button