ڈیجیٹل میڈیا اور صحافت کے بدلتے ہوئے رجحانات

خبر کی تعریف یوں کی جاتی تھی کہ اگر انسان کو کتا کاٹ لے تو وہ خبر نہیں، لیکن اگر انسان کتے کو کاٹ لے تو وہ خبر ہے۔ یہ جملہ محض لطیفہ نہیں بلکہ صحافت کی بنیادی نفسیات کو بیان کرتا ہے۔ خبر ہمیشہ غیر معمولی واقعے کا نام رہی ہے۔ مگر گزشتہ تین دہائیوں میں خبر کی تعریف، اس کی ترسیل اور اس کے اثرات سب کچھ بدل چکا ہے۔
میں نے صحافت کو ریڈیو کی آواز سے لے کر موبائل فون کی اسکرین تک سفر کرتے دیکھا ہے۔ ایک وقت تھا جب ریڈیو گھروں میں معلومات کا بنیادی ذریعہ تھا۔ پھر پرنٹ میڈیا کا دور آیا۔ اخبارات کی تیاری میں خطاطی ایک فن تھی، سرخیوں کو ہاتھ سے لکھا جاتا، صفحات ترتیب دیے جاتے اور پریس کی مشینیں رات بھر چلتی رہتیں۔ یہ محض خبر نہیں بلکہ ایک پورا عمل ہوتا تھا۔
پھر کمپیوٹر آیا اور اس نے خطاط کی جگہ لے لی۔ اخبارات رنگین ہوئے، لے آؤٹ جدید ہوا، تصاویر نمایاں ہوئیں۔ قاری کے لیے خبر زیادہ دلکش انداز میں پیش کی جانے لگی۔ یوں محسوس ہوا جیسے صحافت نے ایک نیا جنم لیا ہو۔
اسی دوران الیکٹرانک میڈیا نے قدم رکھا۔ 2000 کے بعد پاکستان میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو لائسنس ملے اور نشریات کا آغاز ہوا۔ اس وقت پرنٹ میڈیا سے وابستہ کئی سینئر صحافی اس تبدیلی کو آسانی سے قبول نہیں کر پا رہے تھے۔ ہمارے استاد سید عامر حسین تقوی بتایا کرتے تھے کہ پریس کلب میں ٹی وی رپورٹرز کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انگلی پر ٹکرز کی پرچی لپیٹ کر گھومتے ہیں، خبر کا پتہ نہیں چلتا کب آئی اور کب گزر گئی۔
مگر وقت نے ثابت کیا کہ الیکٹرانک میڈیا نے خبر کو رفتار دی۔ لائیو کوریج، بریکنگ نیوز اور ٹاک شوز نے صحافت کو عوامی مکالمے کا حصہ بنا دیا۔ مگر یہ دور بھی زیادہ طویل نہ رہا۔ 2015 کے بعد ڈیجیٹل میڈیا کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے 2020 تک یہ ایک باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر گیا۔
ڈیجیٹل میڈیا دراصل بہت پہلے شروع ہو چکا تھا، مگر اس کی اصل طاقت اس وقت سامنے آئی جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے خبر کو ہر شخص کے ہاتھ میں دے دیا۔ اب خبر صرف رپورٹر یا ادارے کی ملکیت نہیں رہی بلکہ ہر صارف ایک ممکنہ رپورٹر بن گیا۔ موبائل فون نے کیمرہ، ریکارڈر، ایڈیٹنگ سسٹم اور نشریاتی پلیٹ فارم سب کچھ ایک ڈیوائس میں سمو دیا۔
یہ تبدیلی سہولت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ معلومات کی بروقت رسائی نے جہاں آسانیاں پیدا کیں، وہیں فیک نیوز، پروپیگنڈا اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کی نئی راہیں بھی کھول دیں۔ چند سیکنڈ میں سنسنی خیز خبر وائرل ہو جاتی ہے، تصدیق کا مرحلہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ بڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایک غیر مصدقہ اطلاع سے پورے معاشرے میں اضطراب پیدا کر سکتے ہیں۔
مگر اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے فیکٹ چیک کی عادت بھی اپنائی ہے۔ اب ہر خبر کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگ لنکس مانگتے ہیں، سورس پوچھتے ہیں، ویڈیو کی تاریخ تلاش کرتے ہیں۔ یوں ڈیجیٹل دور نے قاری کو بھی متحرک بنا دیا ہے۔
موبائل فون جرنلزم نے صحافت میں بنیادی تبدیلی پیدا کی ہے۔ پہلے رپورٹر کیمرہ مین کے ساتھ جاتا تھا، فوٹیج الگ سے ایڈیٹ ہوتی تھی، پھر فائل ٹرانسفر پروٹوکول (FTP) کے ذریعے چینل کو بھیجی جاتی تھی۔ اب واٹس ایپ گروپس اور کلاؤڈ لنکس نے اس پورے نظام کو مختصر کر دیا ہے۔ خبر چند لمحوں میں نیوز روم تک پہنچ جاتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا رفتار نے معیار کو متاثر کیا ہے؟ یہ وہ نکتہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے۔ خبر کی تصدیق، اس کا سیاق و سباق، اور اس کے اثرات کو سمجھنا پہلے بھی ضروری تھا، آج بھی ضروری ہے بلکہ شاید پہلے سے زیادہ۔
ڈیجیٹل میڈیا اپنے ارتقا کے دور سے گزر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی نے خبر نویسی، ترجمہ، ویڈیو ایڈیٹنگ اور حتیٰ کہ اینکرنگ تک میں قدم رکھ دیا ہے۔ اے آئی سہولت ہے، وقت کی بچت ہے، مگر اگر اس کا استعمال تحقیق کے بغیر ہو تو غلط معلومات تحقیقی مقالہ جات اور مضامین کا حصہ بن سکتی ہیں۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ٹیکنالوجی صحافت نہیں ہے۔ موبائل فون، اے آئی، جدید سافٹ ویئر اور ٹولز صرف سہولت فراہم کرتے ہیں۔ صحافت کی بنیاد آج بھی وہی ہے جو پہلے تھی: خبر کی تصدیق۔
رپورٹر آج بھی فیلڈ میں جاتا ہے، معلومات اکٹھی کرتا ہے، عینی شاہدین سے بات کرتا ہے، پس منظر کھوجتا ہے۔ اسائنمنٹ ایڈیٹر آج بھی خبر کو ترتیب دیتا ہے، کنٹرولر نیوز آج بھی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ فرق صرف رفتار اور طریقہ کار کا ہے، اصول کا نہیں۔
میں نے اپنے کیریئر کے آغاز میں سینئرز سے سنا تھا کہ فون پر ملنے والی معلومات کو حتمی نہ سمجھو۔ خبر کی اصل طاقت اس کی تصدیق میں ہے۔ ویڈیو بھی گمراہ کن ہو سکتی ہے، تصویر کا زاویہ حقیقت بدل سکتا ہے، اور ایجنڈا ہمیشہ کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل دور نے ہمیں سہولت دی ہے مگر ذمہ داری بھی بڑھا دی ہے۔ اب ہر شخص کے ہاتھ میں پلیٹ فارم ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر شخص صحافی ہے؟ شاید نہیں۔ صحافی وہ ہے جو معلومات کی تہہ تک جائے، مختلف ذرائع سے تصدیق کرے، اور حقائق کو ذمہ داری کے ساتھ پیش کرے۔
صحافت کے میدان بدلتے رہیں گے۔ ریڈیو سے پرنٹ، پرنٹ سے الیکٹرانک اور الیکٹرانک سے ڈیجیٹل تک کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ میڈیم بدلتا ہے، مگر مقصد نہیں۔ مقصد آج بھی وہی ہے: سچ کی تلاش اور عوام تک درست معلومات کی ترسیل۔
فیک نیوز اور پروپیگنڈا کے اس دور میں مطالعہ، مشاہدہ اور تجزیہ پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ صحافی اگر خود مطالعہ نہیں کرے گا تو وہ سوشل میڈیا کے شور میں گم ہو جائے گا۔ اگر وہ تجزیہ نہیں کرے گا تو محض ٹرانسمیٹر بن کر رہ جائے گا۔
ڈیجیٹل میڈیا نے صحافت کو محدود نہیں بلکہ وسیع کیا ہے۔ اب مقامی خبر بھی عالمی سطح پر پہنچ سکتی ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ چند منٹ میں بین الاقوامی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔ یہ طاقت ہے، مگر اس طاقت کے ساتھ احتساب بھی جڑا ہوا ہے۔
آج کا صحافی صرف خبر نویس نہیں بلکہ مواد تخلیق کرنے والا، ویڈیو ایڈیٹر، سوشل میڈیا منیجر اور کبھی کبھار فیکٹ چیکر بھی ہے۔ کردار بڑھ گئے ہیں، مگر اصول وہی ہیں۔
بالآخر، صحافت کسی ڈیوائس یا پلیٹ فارم کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا نام ہے۔ اگر خبر کی تصدیق موجود ہے تو وہی اصل خبر ہے۔ اگر تحقیق اور دیانت موجود ہے تو میڈیم کوئی بھی ہو، صحافت زندہ رہے گی۔
ٹیکنالوجی بدلتی رہے گی، پلیٹ فارمز آتے جاتے رہیں گے، مگر اصل صحافی وہی کہلائے گا جو شور میں بھی سچ کی آواز پہچان سکے اور اسے ذمہ داری کے ساتھ پیش کر سکے۔ یہی صحافت کا جوہر ہے اور یہی اس کا مستقبل۔



