پاک سعودی تعلقات 2025 میں نئی بلندیوں پر، دفاع، معیشت اور عوامی روابط مزید مضبوط—سفیر پاکستان احمد فاروق
سفیر پاکستان احمد فاروق کی پریس بریفننگ

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات تاریخ، عقیدے، باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون پر استوار ایک مضبوط اور دیرینہ رشتہ ہیں۔ یہ تعلقات محض سفارتی یا رسمی نوعیت کے نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام، افواج اور قیادت کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے گہری قدر و منزلت رکھتے ہیں۔ سال 2025 میں یہ تعلقات خصوصاً دفاعی شعبے میں ایک نئی سطح پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں، جس کا واضح اظہار سفیر پاکستان احمد فاروق کی پریس بریفنگ اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی عسکری قیادت کو دیے جانے والے اعلیٰ اعزازات سے ہوتا ہے۔

سفیر پاکستان احمد فاروق کی پریس بریفنگ میں سامنے آنے والی تفصیلات اس حقیقت کی غماز ہیں کہ پاک سعودی تعلقات اس وقت ایک جامع اور کثیر الجہتی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، جو دیگر شعبوں میں تعلقات کے فروغ کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ نہ صرف عسکری سطح پر روابط کو مضبوط کر رہا ہے بلکہ اس کے اثرات حکومتی تعاون، معاشی شراکت داری اور عوامی روابط تک بھی پھیل رہے ہیں۔
سال 2025 پاک سعودی دفاعی تعلقات کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ثابت ہوا ہے۔ اس سال سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت کو دیے گئے اعزازات دونوں ممالک کے درمیان غیر متزلزل اعتماد اور گہرے اسٹریٹجک اشتراک کی علامت ہیں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس سے نوازا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سعودی قیادت پاکستان کے کردار، قربانیوں اور دفاعی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
یہ اعزاز کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ یہ درحقیقت پاکستان کی مسلح افواج، ان کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ان کے کردار کا اعتراف ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف داخلی سلامتی کو مضبوط کیا بلکہ دوست ممالک، خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو بھی نئی جہت دی۔ سعودی عرب کا یہ اعلیٰ اعزاز اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان کو مملکت کی سلامتی اور دفاعی شراکت داری میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کو سعودی عرب کے سب سے بڑے اعزاز کنگ عبدالعیز میڈل آف آنر سے نوازا جانا بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اعزاز اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک سعودی دفاعی تعاون محض بری افواج تک محدود نہیں بلکہ تینوں افواج اور مشترکہ عسکری حکمت عملی تک پھیلا ہوا ہے۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا کردار پاک سعودی عسکری ہم آہنگی، مشترکہ مشقوں، دفاعی پالیسی مشاورت اور خطے کی مجموعی سلامتی کے تناظر میں نہایت اہم رہا ہے۔
ایوانِ صدر میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط دفاعی تعلقات کے اعتراف میں سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان پیش کیا گیا، جبکہ سال 2025 میں رائل سعودی نیول فورسز کے چیف وائس ایڈمرل محمد بن عبدالرحمٰن الغریبی کو نشانِ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی اعتماد اور عسکری روابط کی گہرائی کا واضح مظہر ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی عسکری قیادت کو ان اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جانا دراصل دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کے سنہری دور کی علامت ہے۔ یہ اعزازات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف ایک برادر اسلامی ملک ہے بلکہ سعودی عرب کے لیے ایک اسٹریٹجک ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع، تربیت اور عسکری صلاحیتوں کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
سفیر پاکستان احمد فاروق کی پریس بریفنگ کے مطابق دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ معاشی، تجارتی اور تکنیکی شعبوں میں بھی تعاون میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی، زراعت، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں معاہدے طے پا رہے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کی برآمدات میں اضافہ اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ دفاعی اعتماد کی فضا نے ان معاشی شراکت داریوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، کیونکہ مضبوط دفاعی تعلقات ہی پائیدار معاشی تعاون کی بنیاد بنتے ہیں۔
2025 میں پاکستانی افرادی قوت کی سعودی عرب میں موجودگی اور ترسیلاتِ زر کا کردار بھی پاک سعودی تعلقات کی مضبوطی کا اہم پہلو ہے۔ لاکھوں پاکستانی ورکرز سعودی معیشت کی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں، جبکہ وہ پاکستان کے لیے زرِمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہیں۔ یہ انسانی رشتہ دونوں ممالک کے تعلقات کو صرف ریاستی سطح تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ عوامی سطح پر بھی انہیں مزید گہرا کرتا ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے متوقع دورۂ پاکستان کے حوالے سے سفیر پاکستان کی جانب سے دی گئی اطلاعات بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آنے والا وقت پاک سعودی تعلقات کے لیے مزید خوش آئند ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دورہ دفاع، سرمایہ کاری، توانائی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے نئے فیصلوں اور معاہدوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سال 2025 پاک سعودی تعلقات، خصوصاً دفاعی شراکت داری کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کو دیے گئے اعلیٰ سعودی اعزازات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک نہ صرف ماضی میں ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد ساتھی رہے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی خطے کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ یہ تعلقات پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ رشتے کو مزید مضبوط، مستحکم اور دیرپا بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔



