پاکستان ہی نشانہ کیوں؟ پڑھئے ٹوئن سٹی نیوز پر کالم نگار ولید ملک کا اس ہفتے کا کالم

ولید ملک : مملکت اسلامیہ پاکستان کے موجودہ منظرنامے کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی میں جھانکنا ہو گا۔ جب سے 9\11 کا واقعہ ہوا ہے، اس وقت سے یہ ایک بین لاقوامی فانیمانہ بن چکا ہے۔ کہ امریکہ سمیت پورے مغرب اور بھارت کا جتنا بھی political and mediai structure ہے یہ سارے کا سارااسلامک فوبیا اور پاکستانک فوبیا پر کھڑا ہے۔ یعنی ان کی تمام سیاست، میڈیائی وار اور ففتھ جنریشن وارFGWاسلامک فوبیا اور پاکستانک فوبیا کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کا مطلب وہ مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف ایک بڑی اور حتمی جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ جس کے لیے وہ اپنی قوم کو ذہنی، فکری اور عسکری طور پرتیار کر رہے ہیں۔ جس کا ایک بڑا ثبوت 26 فروری 2019 کو بالاکوٹ پر ہونے والے حملے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس بزدلانہ حملے میں بھارت کے ساتھ صہیونی ریاست اسرائیل بھی شامل تھااور ان کی پشت پر امریکہ بہادر پوری قوت کے ساتھ کھڑا تھا۔
اگر ہم صلیبی جنگوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو حیرت انگیز طور پر ایک قدر مشترکہ ملے گی کہ جب بھی انہوں نے صلیبی جنگوں کا آغاز کیا، تب ان کی مذہبی قیادتوں نے اپنی قوم میں اسلامک فوبیا کو انتہائی شرمناک طریقے سے استعمال کر کے ان کا مذہبی استحصال کیا جو آج تک پوری شدت سے جاری و ساری ہے۔بیک وقت اسلامک فوبیا اور پاکستانک فوبیا کی مہم چلانا اس بات کی عکاسی ہے کہ اسلام کے غلبے کا وقت قریب آرہا ہے۔ افسوس: امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی و مذہبی قیادتیں اور ذمہ داران حلقے غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں یا پھر وہ آنے والی ہولناک situationکا ادراک نہیں کر پارہے ہیں۔
افغانستان میں صلیبی تاریخ کی سب سے عبرتناک و شرمناک شکست سے دشمنان اسلام و پاکستان کو اچھی طرح ادراک ہو چکا تھا کہ وہ مملکت اسلامیہ کو فزیکلی شکست نہیں دے سکتے۔ کیونکہ اس سے قبل دشمن زرخرید سہولت کاروں اور منافقین کی مدد سے لسانی، فرقہ واریت، صوبائیت، تکفیری اور خوارج جیسے شیطانی کارڈ استعمال کر چکا تھا۔ جن کو مملکت اسلامیہ پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے ذلت آمیز طریقے سے شکست سے دوچار کیا۔ تب انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرتے ہوئے معاشی اور سیاسی طور پر مملکت اسلامیہ کو ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ بدقسمتی سے فہم وفراست سے عاری ہماری کرپٹ زدہ سیاسی قیادتیں دشمن کے اس گھناونے منصوبے کو یکسر سمجھنے سے عاری رہیں۔ اور تاحال پاکستان اس معاشی و سیاسی بھنور سے نکلتا ہو نظر نہیں آرہا۔
بطور ایک غیور قوم کے ہمیں اس تلخ حقیقت کو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ دجالی اور اکھنڈ بھارت کے دوبارہ قائم ہونے کے ناپاک منصوبے میں رکاوٹ مملکت اسلامیہ پاکستان اور پاک سیکورٹی ادارے ہیں۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں: کسی بھی سیاسی، مسلکی، دینی، لسانی و فوج مخالف جذباتیت کی رو میں بہہ کر کوئی بھی ایسا احمقانہ قدم نہ اٹھانا کہ بطور قوم ہمارے لیے واپسی کے تمام راستے بند ہو جائیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہمیں ان زمینی حقائق کا ادراک کر لینا چاہیے کہ کتنی چالاکی و عیاری سے گھڑی و آرمی چیف کی تعیناتی پر سیاست سیاست کھیل کر عوام کو فکری طور پر تقسیم در تقسیم کرنے کا گھناونا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ سمجھ نہیں آرہی کہ سادہ لوح عوام ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر خوش ہو رہی ہے یا پھر اپنی نسلوں کا مستقبل اپنے ہی ہاتھوں سے تباہ کر رہی ہے۔ حالانکہ آرمی چیف کی تعیناتی یا پروموشن عام روٹین کے مطابق روزمرہ کی آفیشلی کاروائی ہے، حیرت ہے اس کے باوجود چہ معنی دارد۔
جبکہ دوسری جانب ہمارے ازلی دشمن بھارت کے 700اضلاع میں سے 200 اضلاع میں چھوٹی بڑی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ جہاں پر تقریباََ چار لاکھ کے قریب سیکورٹی اہلکار مصروف ہیںتو دوسری جانب کشمیر میں ساڑے سات لاکھ فوج Engageہے۔ اس تمام صورت حال نے بھارتی فورسز کی قیادتوں اور انتہا پسند مودی سرکار کو حواس باختہ کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب بھارت کا عسکری ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ کیونکہ جب 26 فروری 2019 کو پاکستان نے بھارت کے دو طیارے گرائے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کیا،تو مستقبل کے ہندو گوربا چوف (مودی )نے فوج کو پاکستان میں داخل ہونے کو کہا تو حیرت انگیز طور پر مودی کو انکار کی صورت میں جواب ملا۔ اس تمام گھمبیر صورت حال نے انتہا پسند مودی سرکار اور اکھنڈ بھارت کے جنونی پنڈتوں کی راتوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ اس وقت بھارت کی یہی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ایک دفعہ پھر دہرا رہا ہوں کہ اس وقت بھارت کی یہی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ بھارت کے زیر تسلط کشمیر ی قیادت اور بھارتی مسلمانوں کو ان زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہو گا۔ جارحانہ پالیسی بدترین دشمنوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار ہونے کے ساتھ ساتھ امن کی ضمانت بھی ہے۔

مرکزی ڈیسک

ٹوئن سٹی نیوز پاکستان کے دو بڑے شہروں راولپنڈی اسلام آباد کا مقامی سطح کا ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے،جو جڑواں شہروں کی مقامی خبروں کے ساتھ راولپنڈی اسلام آباد کا مقامی کلچر، خوبصورتی، ٹیلنٹ اور شخصیات کو سامنے لےکر آتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Open chat
رہنمائی حاصل کریں
السلام علیکم! ہم آپ کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟